Posts

Showing posts with the label باقی صدیقی

کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط

دل کا ہر زخم سی لیا ہم نے

اہل دل فرمائیں کیا درکار ہے

کس کا احساس اور کیسے گلے

بے کلی بے سبب نہیں ہوتی

یاد آؤ نہ صبح و شام بہت

سامنے بیٹھ کے ہر بات ہوئی

آپ سے آشنائی کرتے ہیں

جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے

تار دل کے ٹوٹ کر چپ ہو گئے

تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں

آئی نہ پھر نظر کہیں جانے کدھر گئی

صبح کا بھید کیا ملا ہم کو

ان کا یا اپنا تماشا دیکھو

ڈوب کر نبض ابھر آئی ہے

عمدہ شعر

کتنے حسیں ہو ، باقی صدیقی

حادثے کچھ پس دیوار بھی ہیں

آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل