Posts

Showing posts with the label اصغر گونڈوی

کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود

خدا جانے کہاں ہے اصغرؔ دیوانہ برسوں سے

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے

عشق ہی سعی مری عشق ہی حاصل میرا

ہے ایک ہی جلوہ جو ادھر بھی ہے ادھر بھی

کوئی محمل نشیں کیوں شاد یا ناشاد ہوتا ہے

اس طرح چھیڑئے افسانۂ ہِجراں کوئی

نہ یہ شیشہ نہ یہ ساغر نہ یہ پیمانہ بنے

آنکھوں میں‌ تیری بزم تماشا لئے ہوئے

اگرچہ ساغر گل ہے تمام تر بے بود

تمام دفتر حکمت الٹ گیا ہوں میں

ترک مدعا کر دے عین مدعا ہو جا

ہر موج ہوا زلف پریشان محمد