Posts

Showing posts with the label جاوید اختر

ہم نہ سمجھے تھے بات اتنی سی

جب آئینہ کوئی دیکھو اک اجنبی دیکھو

اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے جو ہوگا اچھا ہوگا

شہر کے دکاں دارو کاروبار الفت میں سود کیا زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی​

تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے

جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتا

یاد اسے بھی ایک ادھورا افسانہ تو ہوگا

دشواری ، جاوید اختر

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے

اک دوسرے کے ہمسفر، میں اور میری آوارگی

میرے اچھے دِنوں کی آشنا تھی​