اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے جو ہوگا اچھا ہوگا

اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے جو ہوگا اچھا ہوگا
پہلے سوچا ہوتا پاگل  اب رونے سے کیا ہوگا

یار سے غم کہہ کر تو خوش ہو  لیکن تم یہ کیا جانو
تم دل کا رونا روتے تھے  وہ دل میں ہنستا ہوگا

آج کسی نے دل توڑا تو ہم کو جیسے دھیان آیا
جس کا دل ہم نے توڑا تھا وہ جانے کیسے ہوگا

میرے کچھ پل مجھ کو دے دو  باقی سارے دن لوگو
تم جیسا جیسا کہتے ہو سب ویسا ویسا ہوگا

جاوید اختر

Comments