سبھی میں ہوتا ہے مجھ میں ذرا زیادہ ہے

سبھی میں ہوتا ہے , مجھ میں ذرا زیادہ ہے
مِرے وجود میں , مَیں کم خدا زیادہ ہے
چراغ دھر کے ہتھیلی پہ لا نہیں سکتا
میں جس جگہ ہوں وہاں پر ہَوا زیادہ ہے
ہمارے رشتے میں سچ ہے, معاملے میں نہیں
ہمارے بیچ میں جھوٹی انا زیادہ ہے
میں خیر و شر کے توازن میں رہنا چاہتا ہوں
مجھے پتہ تو چلے مجھ میں کیا زیادہ ہے
دنوں کے بعد مجھے اُس نے دکھ دیا تھا کوئی
میں اس سے یہ بھی نہیں کہہ سکا, زیادہ ہے
یونہی نہیں ملے معنی مِری خموشی کو
بس اپنے آپ کو میں نے سُنا زیادہ ہے

انجم سلیمی

Comments