زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ
دوستو بار گہہِ قتل سجاتے جاؤ
قرض ہے رشتۂ جاں قرض چکاتے جاؤ
اپنی تقدیر میں صحرا ہے تو صحرا ہی سہی
آبلہ پاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئے پھول کھلاتے جاؤ
زندگی سایۂ دیوار نہیں دار بھی ہے
زیست کو عشق کے آداب سکھاتے جاؤ
اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار
ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ
کارواں عزم کا روکے سے کہیں رکتا ہے
لاکھ تم راہ میں دیوار اٹھاتے جاؤ
ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام
جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ
جن کو گہنہ دیا افکار کی پرچھائیں نے
محسن ان چہروں کو آئینہ دکھاتے جاؤ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسن بھوپالی
Comments
Post a Comment