کچھ صحیفے جلے پڑے ہوئے تھے

کچھ صحیفے جلے پڑے ہوئے تھے
ساتھ دِل بھی بجھے پڑے ہوئے تھے
طاق میں ، میں تھا اور میرے قریب
دیئے ٹوٹے ہوئے پڑے ہوئے تھے
کاغذی لوگ کاغذی رشتے
کاغذوں میں دبے پڑے ہوئے تھے
جانے توڑے تھے کِس نے کِس کیلئے
پھول میرے گلے پڑے ہوئے تھے
واپسی کا سوال پیدا ہوا
اۤگے سو راستے پڑے ہوئے تھے
چکھ رہا تھا میں اک بدن کا نمک
سارے برتن کھُلے پڑے ہوئے تھے
ہجر میں بھی ہم ایک دوسرے کے
اۤمنے سامنے پڑے ہوئے تھے
عُمر تدفین میں بسر کر دی
لوگ مجھ میں مرے پڑے ہوئے تھے
  انجم سلیمی

Comments