Posts

Showing posts with the label دلاور علی آزر

وہ بہتے دریا کی بے کرانی سے ڈر رہا تھا

چلے بھی آؤ کہ حجت تمام ہو چکی ہے

کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ

رنگوں کے پیچ و تاب میں تصویر الگ ہوئی

گل کوئی چیز ہے نہ گل کوئی چیز

ہٹ گئے چشم تصور سے گماں کے پردے

جہان لفظ و معانی میں دن گزر رہے ہیں

ہم کیوں سمجھ رہے تھے کہ ناو کے ساتھ ہے

بڑھا لے اپنی سواری نہ اب دکان لگا 

ساحل کا ظرف ہے نہ سمندر کی چیز ہے

آنکھوں میں رات کٹ گئی پلکوں پہ دن بتائیے