ہم کیوں سمجھ رہے تھے کہ ناو کے ساتھ ہے
ہم کیوں سمجھ رہے تھے کہ ناو کے ساتھ ہے
دریا تو صرف اپنے بہاو کے ساتھ ہے
پانی پگھل کے ہونٹ تک آتا ہے دیر سے
اک برف کی چٹان الاو کے ساتھ ہے
دل کی کُشادگی پہ وہ حیراں ہے کس لیے
یہ زخم ابتدا سے کٹاو کے ساتھ ہے
سلوٹ کوئی نہ آئے گی اس سائبان میں
یعنی طنابِ خیمہ کھنچاو کے ساتھ ہے
یہ جس جگہ کہے گا ٹھہر جاؤں گا وہیں
میرا پڑاؤ دل کے پڑاو کے ساتھ ہے
رشتے کو ڈھیل دینے میں شاید نہ آ سکے
وہ خوب صورتی جو تناو کے ساتھ ہے
ہم نے ہی ٹیڑھ پن کو یہاں عام کر دیا
ورنہ حیات سیدھے سبھاو کے ساتھ ہے
میری غزل کے باب میں احباب نے کہا
ہر لفظ اس میں اپنے رچاو کے ساتھ ہے
ذروں کی دھن پہ رقصاں ہیں آزر مہ و نجوم
کیا آسماں زمیں کے گھماو کے ساتھ ہے
دلاورعلی آزر

Comments
Post a Comment