Posts

Showing posts with the label عمران عامی

حالانکہ اس کی سمت اشارہ نہيں مرا

گناہ کر کے کہیں پارسا نہ ہو جائے

اس نے تو خیر استخارا کیا

تم نئے تو نہيں الزام لگانے والے

یوں تو ہیں بے شمار اپنی جگہ

بات کرنی کوئی درباری نہيں آتی مجھے

مزے کے دن ہیں

کیا دن تھے کہ ہر دل پہ تھی سلطانی ہماری

یہ سوچ کر ترے دل سے ہنسی خوشی نکلے

رشوت نہيں انعام سے مشہور ہوا ہے

اچھے خاصے دکھتے ہو بیماری میں

ناؤ میں چھید کیے پار نہيں ہونے دیا

اک غیر نے لکھا ہے کہ تو غیر نہيں ہے

یوں بھی بھوک مٹا سکتا ہے

کسی پہ کیسے کھلے راکھ ہے کہ سونا ہے

کام سے نام بنانا ہے چلے جانا ہے

تمہاری یاد سے پہلو تہی نہيں کریں گے

عشق نعمت ہے کہ آزار نہيں جانتا ہوں

جانے کیا ڈر دل بے باک میں بیٹھا ہوا ہے

میں چھوٹے لوگوں کو پہلے بڑا بناتا تھا