Posts

Showing posts with the label کومل جوئیہ

بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت

منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے

آپ کو حاکم بنایا تھا خدا کس نے کیا

قربت سے ناشناس رہے کچھ نہیں بنا

یہ داستان محبت کی شِق بہ شِق دُکھ ہے

مجھ سی پاگل کو اشارہ نہیں ہونے والا

زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا

ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب لگی شرط

خیال گھومتا تھا یوں خیالِ یار کے گرد

بدن کو کاٹتا ہے دکھ ملال نوچتے ہیں

کہیں دے آکھے خراب تھیندے تاں تھیندا راہوے

یہ ظلم سر دار مجھے یاد رہے گا

پھر اس کے بعد وہ روٹھا رہا نہیں مانا

لبوں پہ قفل تھے چپ کے ڈرے ہوئے تھے تمام

یہ دیا عشق کا درگاہ سے منسوب نہ کر

وہ نمازوں میں دعاؤں کے وظیفوں جیسا

یہ مری ضد ہے کہ ملتان نہیں چھوڑوں گی

بن گئے ہیں گلے کا ہار ترے

دل سے یوں دھڑکنیں الجھتی ہیں

زمانے بھر کی گردشوں کو رام کر کے چھوڑ دوں