Posts

Showing posts with the label آنس معین

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو

ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور

جیون کو دکھ، دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے

عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا

دانشور کہلانے والو تم کیا سمجھو

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

آنس معین

عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا

اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے 

کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے 

آنس معین متفرق اشعار