Posts

Showing posts with the label راکب مختار

ہم ایک شخص نہیں کائنات ہارے تھے

میں جب اس کےلئے بیتاب ہوا کرتا تھا

ورنہ کھا جاتے مسائل مجھے خیر و شر کے

تھکے ہارے قدیمی دشت سے لٹ کر گزرتے تھے

تو مجھ سے دور چلا جائے گا ، خدا نہ کرے

شکوے نہ کیا کر پس دیوار ہمارے

عین ممکن ہے کوئی آنکھ بھی بیدار نہ ہو

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

اس نے جو گھر میں سر پہ دوپٹہ نہیں کیا

بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

یہیں نشست ملی روز اولیں سے مجھے

رستہ رفتار کی مایوسی سے اٹ جاتا تھا

غریب شخص تھا ترسا ہوا سو چوم لیا

ایسا مت سوچ کہ اک جیسی کہاں ہوتی ہے

دن ڈھلا اور شام آئی روشنی جاتی رہی

یہ کتنا سچ ہے دیکھیں گے کہ وہ کیسے لگاتے ہیں

یہ کیا ہے خوبی کہ خامی مگر مکرتا نہیں

بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں

غرض کیا اس سے تو مسلم ہے یا کافر ، مسافر

بھٹک گیا تھا کسی آنکھ میں قیام سے میں