بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
بس اتنا وقت ہی لگنا تھا زہر کھانے میں
جو تو نے صرف کیا ہے دیا بجھانے میں
خدا کرے کہ مرے کوزہ گر کو علم نہ ہو
جو لطف آتا ہے بنتے ہی ٹوٹ جانے میں
کہیں یہ بھول نہ جائیں کہ کوئ قید بھی ہے
جھٹکتا رہتا ہوں زنجیر قید خانے میں
عجیب کھردرے لہجوں نے مجھ کو چاٹ لیا
میں نذرٍ شور ہوا خامشی بچانے میں
ہمارے شہر کے قاتل بڑے منافق ہیں
جلا کے رکھتے ہیں لاشوں کو سرد خانے میں
میں تجربوں میں گھرا بدنصیب آدمی ہوں
گنوا دئیے ہیں کئی یار آزمانے میں
مجھ ایسا دوسرا ممکن نہیں کہ مل پائے
مجھ ایسا دوسرا ہے ہی نہیں زمانے میں
یہ آسماں بھی مساوات کی علامت ہے
اکٹھے رہتے ہیں سب ایک شامیانے میں
راکب مختار
Comments
Post a Comment