ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحب

ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحب
جواب اور بھی دشوار ہو گئے صاحب
اسے بھی شوق تھا تصویر میں اترنے کا
تو ہم بھی شوق سے دیوار ہوگئے صاحب
ترے لباس کے رنگوں میں کھو گئی فطرت
یہ پھول شول تو بے کار ہوگئے صاحب
گلے لگا کے اسے خواب میں بہت روئے
اور اتنا روئے کہ بیدار ہوگئے صاحب
ہماری روح پرندوں کو سونپ دی جائے
کہ یہ بدن تو گنہگار ہوگئے صاحب
نظر ملائی تو اک آگ نے لپیٹ لیا
بدن جلائے تو گلزار ہوگئے صاحب
چراغ دفن کیے تھے ندیم قبروں میں
زمیں سے چاند نمودار ہوگئے صاحب
ندیم بھابھہ

Comments