اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے

قطعہ

اب تو اشکوں کی روانی میں نہ رکھی جائے
اس کی تصویر ہے، پانی میں نہ رکھی جائے
تیری خوشبو سے مہکتا رہے بستر میرا
رات اب رات کی رانی میں نہ رکھی جائے
فاضل جمیلی

Comments