بتا تو دے یہ کم سے کم کہاں گیا
بتا تو دے یہ کم سے کم کہاں گیا
ترا خلوص ایک دم کہاں گیا
کدھر گئیں وہ ضبط کی نصیحتیں
سنا جو آنکھ میں تھا نم کہاں گیا
یہیں کہیں اداسیوں کے بیچ میں
رکھا ہوا تھا ایک غم کہاں گیا
وہ ذوق شوق اہتمامِ زندگی
نہیں پتہ تری قسم کہاں گیا
تُو کہہ رہا تھا اک قدم پہ ہوں ترے
لے تھام اب وہ اک قدم کہاں گیا
خدا کا واسطہ ہے چپ کرو ذرا
پتہ چلے کہ سُر ردھم کہاں گیا
محبتوں کے نام لیوا جاہلو
وہ جھوٹ موٹ کا بھرم کہاں گیا
وہی تو ایک ہم مزاج شخص تھا
کوئی خبر ہو محترم ،کہاں گیا
جہانزیب ساحر
Comments
Post a Comment