Posts

Showing posts with the label قتیل شفائی

نظر نظر میں وہ نور یقیں تھے تب بھی

حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا

رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں

بہت دنوں سے نہیں اپنے درمیاں وہ شخص

یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

نہ جانے کن اداؤں سے لبھا لیا گیا مجھے

ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں

تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے

کیوں ہم سے خفا ہو گئے اے جان تمنا

روکے لاکھ خدائی تم سچ لکھتے رہنا

یارو کہاں تک اور محبت نبھاؤں میں

کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیا

جو بھی غنچہ تیرے ہونٹوں پر کھلا کرتا ہے

جب درمیاں ہمارے یہ سنگدل زمانہ دیوار چن رہا تھا

تہہ میں جو رہ گئے وہ صدف بھی نکالئے

حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجئے

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر