Posts

Showing posts with the label اظہر فراغ

لگے تھے لوگ اسے ہوشیار کرنے میں

جتنی راز داری سے رابطے بڑھاتی ہے

یہ بھی حق نہیں رہا کیا مجھے

نئی پگار کے خط افسروں کو جائیں گے

بھر بھی جائیں گے اگر سینہء صد چاک کے زخم

بہت مشکل ہے اس کے ساتھ کار دلبری کرنا

اس کھوج میں جلتا ہے بہت خون ہمارا

زنگ لوہے میں گھل گیا ہوگا

پہلے پوشاک پسینے سے بھری

خواب تو پارہ پارہ ہو گیا ہے

مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم

جب تلک تیرا سہارا ہے مجھے

یہ مرحلہ ہے طلب کا نصیب کا نہیں ہے

انساں کو اگر فکر سکونت نہیں رہتی

ترے ذوق نے وہ ثمر مری تہی ڈالیوں پہ لگا دیا

پھول رکھنے کے لئے طشت جبیں لے آؤ

کیا کچھ نہیں تھا بس میں مگر دل نہیں کیا

اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آ جاتا ہے

ہماری طرح محبت کا فلسفہ سمجھے

ڈوب جائیں گے تو پانی سے نکل آئیں گے