پھول رکھنے کے لئے طشت جبیں لے آؤ
پھول رکھنے کے لئے طشتِ جبیں لے آؤ
اپنا چہرہ مرے ہونٹوں کے قریں لے آؤ
کچھ تو احساس ِاسیری میں کمی آئے گی
دوست تم اپنی چٹائی بھی یہیں لے آؤ
کھڑکیوں کے لئے تجویز کرانی ہے جگہ
جاؤ تاریک مکانوں کے مکیں لے آؤ
تم سے خوش بخت کو ایسا کوئی مشکل بھی نہیں
وسوسے بانٹنے والوں سے یقیں لے آؤ
جتنے وافر ہو زمانے کے لیے ڈرتا ہوں
خود کو معیار سے کم پر نہ کہیں لے آؤ
اظہر فراغ
Comments
Post a Comment