مرے ریگ زار میں اس برس یہ کمال موج بلا کاتھا

مرے ریگ زار میں اس برس یہ کمال موجِ بلا کاتھا
نہ وہ کشتیاں تھیں غبار کی نہ وہ بادبان ہواکاتھا

کبھی چشم شوق کے سامنے کوئی شے دھنک کی طرح کھنچی
کبھی دل کے دشت میں پھول سا کوئی کھل گیاجو بلا کاتھا

کبھی ایک یاد کی لہر نے مرے ساحلوں کوسبک کیا
کبھی اک ستارہ چمک اٹھا جو اسی ستارہ نما کاتھا

کئی رنگ جس میں سما گئے وہ طویل دھوپ کی جھیل تھی
جو کئی چراغ بجھا گیاہے وہ ہاتھ بادِ فنا کاتھا
اسعد بدایونی

Comments