وحشت کی عنایت ہوئی مجھ پہ جو ذرا سی

وحشت کی عنایت ہوئی مجھ پہ جو ذرا سی
آنکھوں  میں اتر آئی ہے صحرا کی اداسی
پہلے تو سجائی تھی یہاں محفل گریہ
پھر درد کے پیوند سے ہجراں کی قبا  سی
آنکھوں سے بھی آگے ہے محبت کا علاقہ
سو روح بھی رہتی ہے تری دید  کی پیاسی
خود کو بھی نہیں جانتے ، وہ اصل میں کیا ہیں ؟؟
کیسے کریں گے لوگ وہ  انسان شناسی
کررار کے لہجے میں ہی بولی تھی مبشر
دربار یزیدی میں محمد کی نواسی
مبشر سعید

Comments