Posts

Showing posts with the label غزل

ہم ڈھانپ تو لیں نین تیرے نین سے پہلے

جو بھی انسان ملا اس سے محبت کی ہے

افلاک کے پردوں سے یہ جاری ہوا فرمان

ایسے ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس

پسینے پسینے ہوئے جا رہے ہو

شیشے کی دیوار گرائی جا سکتی ہے

سکوں بھی وہ جو تجھے دیکھ کر ملا ہے مجھے

کچھ عجب طرح کا طوفان اٹھا ہے دل میں

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

ملتا نہیں جہان سے میرا مزاج اور ہے

اپنی مستی کہ ترے قرب کی سرشاری میں

خامشی کو اس طرح جھنکار کر لیتا ہوں میں

میرا مزاج مجھے اس لئے نہ راس آیا

بچے کا ہاتھ جا نہ سکا آسمان پر

موسم گل پر خزاں کا زور چل جاتا ہے کیوں

اس کا کمال ہے کہ خزاں پر بہار ہے

ہم جو کہنے کو خزاں میں بھی ہرے رہتے ہیں

دل یہ نادان تھا اس عشق کو ایماں سمجھا

آبلہ پائی ہے محرومی ہے رسوائی ہے