میرا مزاج مجھے اس لئے نہ راس آیا

میرا مزاج مجھے اس لئے نہ راس آیا
جو میرے پاس نہیں تھا وہ دل کے پاس آیا
یہ بات اہم نہیں ہے، مگر بتاتی چلو
میرا خیال بھی آیا تھا، جب وہ پاس آیا
بلندیوں سے گرایا میری ہوس نے مجھے
کہ رات ہاتھ بڑھایا تو بس لباس آیا
میں پوچھ لیتا اگر نیند میں نہ ہوتا میں
وہ میرے خواب میں آیا تو کیوں اداس آیا
سوال کرتی رہیں مجھ سے جاگتی آنکھیں
تمہیں یہ خواب زدہ شہر کیوں نہ راس آیا

قیسؔ قیصرانی

Comments