اس کے دل کے اندر ساڈی یاد کا روڑا رڑکا ہوگا
اس کے دل کے اندر ساڈی یاد کا روڑا رڑکا ہوگا
اس کے دل کے اندر ساڈی یاد کا روڑا رڑکا ہوگا
ماہی بے آب کی مانند،تڑپا ہوگا،پھڑکا ہوگا
شور شرابا کھڑکا وڑکا سن کر اس نے گیس لگایا
یا بادل گرجا ہے اوپر یا بیگم کا کڑکا ہوگا
سینے کی ہا نڈی کے اندر وکھری ٹائپ کی شوں شوں ہوگی
ساڈے دل کی دال کے اوپر اس کے حسن کا تڑکا ہوگا
خوش ہو کر دروازہ کھولا اگیوں میٹر ریڈر نکلا
وہ سمجھی تھی کہ شائد آج بھی سامنے والا لڑکا ہوگا
خالد مسعود خان
Comments
Post a Comment