Posts

Showing posts with the label حسرت موہانی

مونسِ بے کساں درود شریف

تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا

عشق بتاں کو جی کا جنجال کر لیا ہے

گزر گئی حد سے پائمالی، عتابِ ترکِ کلام کب تک​

پردے سے اک جھلک جو وہ دکھلا کے رہ گئے

ملتے ہیں اس ادا سے گویا خفا نہیں

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

روگ دل کو لگا گئیں آنکھیں

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا

اور تو پاس مرے ہجر ميں کيا رکھا ہے

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں

خوف ہو ان کو تو ہو حسن کی بدنامی کا

غیر دیکھی ہو غم ہجر سے حالت میری

بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

کیا پوچھتے ہو عاشق بیمار کا مزاج

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے 

تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا 

اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ، غفلت کرکے

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں