غیر دیکھی ہو غم ہجر سے حالت میری
غیر دیکھی ہو غمِ ہجر سے حالت میری
خواب میں آئے مِٹانے وہ شکایت میری
کیسے بُھولوں میں خطاکاریہ کہنا اُن کا
یاد آئے گی مرے بعد نصیحت میری
دے کے جان اپنی کیا تائبِ عصّیاں مجھ کو
رنج کیا کیا نہ سہے اُس نے بدولت میری
خدمتِ شاہِ شہیداں میں سفارش کرکے
اب وہ بے لوث بنادیں گے ریاضت میری
فکر اورمیرے خورد و نوش کی اب تک حسرؔت
اُن سے چُھوٹی ہے نہ چُھوٹے گی رقابت میری
حسرت موہانی
Comments
Post a Comment