کچھ بولنے دو

کُچھ بولنے دو

کھولنے دو
خشبو کے دریچے کھولنے دو
تولنے دو
اِس طائرِ جاں کو دُور دیس کے لمبے سفر پر جانے کو
پر تولنے دو

بولنے دو
اِس جسم کی قید میں سُرخ لہُو کو، بولنے دو
اِن سبز سنہرے پردوں کے اُس سمت
بڑا سنّاٹا ہے 
مت ٹوکو مجھے، مت روکو مجھے
کُچھ بولنے دو

شہریاؔر

Comments