Posts

Showing posts with the label پارس مزاری

پامال نقش ہوں میں ابھارو گے کیا مجھے

ماحول کے مجاور زہریں بنا رہے ہیں

جو رشکِ رفعتِ عرشِ بریں ہے

اب اور یہ دل کس کا طلبگار بنے گا 

باغ جنت کے زینے سے واقف نہیں 

سو اپنا تکیہ گلے سے لگا نہیں رہے ہم

چھو نہیں سکتے تری چھت کی کوئی سل ہم لوگ

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے

اپنی پسند چھوڑ دی اسکی خرید لی

طلب ہماری کا صبر آزما نہیں رہے ہم

کوئی امید ہم تبھی رکھتے

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک

چائے کے رنگ سا لگے گا داغ

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے

پھولوں کی نمائش ہے مرے ساتھ چلے گا

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی