کوئی امید ہم تبھی رکھتے

کوئی امید ہم تبھی رکھتے
آپ چولہے پہ دیگچی رکھتے
چوٹ ایسی کہ فیصلہ نہ ہوا
باندھتے پٹی یا کھلی رکھتے
تھیں جو مجبوریاں علاقائ
کم سے کم سوچ عالمی رکھتے
دن ہے وقفِ حصولِ رزق مرا
آپ تقریب رات کی رکھتے
چھت ٹپکتی تھی جابجا پارس
ہم کہاں لاکے بالٹی رکھتے
پارس مزاری

Comments