جگہ دے دو ذرا سی دیکھنے کو
جگہ دے دو ذرا سی دیکھنے کو
مِری آنکھیں ہیں پیاسی دیکھنے کو
انھیں آنے دو میرے آئنے تک
جو آئے ہیں اداسی دیکھنے کو
تِری پوجا کو آیا ہے زمانہ
تِری یہ ایک داسی دیکھنے کو
تعفن ہے ، رکاوٹ ہے، گھٹن ہے
یہاں ہے بس نکاسی دیکھنے کو
سڑک ہو، گھر ہو یا دیوارِ خلوت
وہی منظر ہے باسی دیکھنے کو
یہاں سب پارسا بِن پارسا ہیں
نہیں ہے کوئی عاصی دیکھنے کو
کسی نے کچھ نہیں دیکھا ابھی تک
لگی ہے بھیڑ خاصی دیکھنے کو
حمیدہ شاہین
Comments
Post a Comment