چھونا تو درکنار ہے سوچا نہ جائے گا

چھونا تو درکنار ہے ، سوچا نہ جائے گا
روحوں کی گفتگو میں بدن کیسے آئے گا
ہے عشق وہ بزرگ جو اے طالب نشست
ڈیرہ تیرے وجود کے اندر لگائے گا
لو تیز ہو رہی ہے ابھی کچھ ہی دیر میں
سننا..!  کہ یہ چراغ تمہیں کچھ سنائے گا
بے وزن و بے ردیف پڑا ہوں تیرے حضور
ہے کون تجھ سوا..؟ جو یہ مصرعہ اٹھائے گا
لہجے کو نرم رکھ کے سخن کر ، یہ دشت ہے
وحشی سے بدتمیزی نا کر ، مار کھائے گا

علی زریون

Comments