طلب ہماری کا صبر آزما نہیں رہے ہم
طلب ہماری کا صبر آزما نہیں رہے ہم
یہ پھل ہی اتنا حسیں ہے کہ کھا نہیں رہے ہم
اب اس سے اور محبت بھی کتنی سچی ہو
خیالِ کارِ ہوس بھی چھپا نہیں رہے ہم
غزل میں اس لیے لائے نہیں تری آنکھیں
ہمیں لگا یہ قوافی نبھا نہیں رہے ہم
یہ عارضی سا تعلق نہ رکھ ، تسلط دے
کسی پلاٹ پہ قبضہ جما نہیں رہے ہم
ہمارے جسم کو لاحق ہے شرکِ لمس کا خوف
سو اپنا تکیہ گلے سے لگا نہیں رہے ہم
تجھ ایسے حسن پہ اچھا ہے پردہء شرعی
یہ مشورہ ہے کوئی حق جتا نہیں رہے ہم
پارس مزاری
Comments
Post a Comment