Posts

Showing posts with the label جمال احسانی

سب پھول ترے زخم ہمارے ہیں کم و بیش

ایک فقیر چلا جاتا ہے پکی سڑک پر گاؤں کی

اس سمے کوئی نہیں میری نگہبانی پر

قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا​

اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑجائے

بکھر گیا ہے جو موتی پرونے والا تھا​

اپنے ہمراہ جلا رکھا ہے

نہ سننے میں نہ کہیں دیکھنے میں آیا ہے

اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑجائے

ہونے کی گواہی کے لیے خاک بہت ہے

عمر گزری جس کا رستہ دیکھتے

عشق میں خود سے محبت نہیں کی جاسکتی

جو بیل میرے قد سے ہے اوپر لگی ہوئی

جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے

ذرا سی بات پہ دل سے بگاڑ آیا ہوں

دھرتی پر سب درد کے مارے کس کے ہیں

دل کی طرف دماغ سے وہ آنے والا ہے

دل میں یاد رفتگاں آباد ہے

سویرا ہو بھی چکا اور رات باقی ہے

سمندروں کے درمیان سو گئے