عزیز فیصل مزاحیہ اشعار
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں
اسلام اباد چھوڑ دیں لاہور جا بسیں
ہوتی ہے اپنے پنڈ کے لوگوں سے وہ فری
ہم کیوں نہ اس کے پنڈ میں فی الفورجا بسیں
۔۔۔۔
جنوری کی شدید سردی میں
ان ٹھٹھرتے ہوئے درختوں کو
او چائے پلا کے دیکھتے ہیں
۔۔۔۔
میں ہوں محفوظ سب لٹیروں سے
اس کی بھرپور شورٹی دی جائے
منہ میں سونے کا دانت رکھتا ہوں
میرے منہ کو سکورٹی دی جائے
۔۔۔۔۔
اگرگلی میں رقیبوں کی ہاؤ ہو ہوگی
میں سوچتا ہوں کہ ڈسٹرب کتنی تو ہوگی
جہاں ہوں پان کی نسوار کی کمیں گاہیں
وہاں پہ دانت کے کیڑوں کی کیا نمو ہو گئی
ہے مسس بہار مری بوس 10 خزاںؤں سے
براجمان وہ دفتر میں مثل لو ہو گئی
۔۔۔۔۔
یہ جو نزلہ زکام ہوتا ہے
وائرس کا سلام ہوتا ہے
ہجر ہوتا ہے آٹھ دس ٹن کا
وصل اک دو گرام ہوتا ہے
متشاعر کے جیب میں ہر وقت
ڈھیر سارا کلام ہوتا ہے
عزیز فیصل
Comments
Post a Comment