Posts

Showing posts with the label عمیر نجمی

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے

دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا

اس کی طرف بس اس لیے تکتا نہیں تھا میں

کہا جو میں نے غلط کر رہی ہو چن کے مجھے

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں ، بس

آگے تھے ہم سے راہ عدم میں نہیں رہے

جاری تھی کب سے کُن کی صدا ،روک دی گئی

بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو

ہم روکنے کو پاؤں پڑے جا رہے ہیں ، یار

بس اک اسی پہ تو پوری طرح عیاں ہوں میں

جہاں تلک تو مری ذات کا تعلق ہے

چاہتا ہوں کہ نظر، نور سے مانوس نہ ہو

مرے خلاف ان میں باہمی مشورے ہوئے ہیں

میرا ہاتھ پکڑ لے پاگل جنگل ہے

اگے نہ بیج مشقت اگرچہ کم نہیں کی

نقاب اڑا تو مجھے سرخ لب دکھائی دیئے

جدھر کھڑا تھا نہیں ہوں ادھر کدھر گیا میں

دھوپ کی عمر زیادہ ہے سفر مجھ سے کم

پہنچی ہے کس طرح مرے لب تک ،نہیں پتہ

نہیں ہے وجہ ضروری کہ جب ہو تب مر جائیں