Posts

Showing posts with the label ادا جعفری

نہ بام و دشت نہ دریا نہ کوہسار ملے

اجنبی دیس میں

پھول صحراؤں میں کھلتے ہوں گے

مطلوب زندگی کو ابھی امتحاں نہیں

اندھیری رہ میں مسافر کہیں نہ بھٹکا تھا

حیراں ہوں کیوں دیر پشیماں سا لگے ہے

عالم ہی اور تھا جو شناسائیوں میں تھا

جھیل

اور کوئی دیا بجھے دیدۂ نم ابھی نہیں

وہی ناصبوری آرزو وہی نقش پا وہی جادہ ہے

زباں کو حکم نگاہ کرم کو پہچانے 

آخری ٹیس آزمانے کو 

نقش بر آب

خود حجابوں سا خود جمال سا تھا

اچانک دلربا موسم کا دل آزار ہو جانا

مری زمیں پہ جو موسم کبھی نہیں آیا

ہمیں خود سے بھی ملنا تھا کسی ہمراز سے پہلے

داستان لب و رخسار سے آگے نہ بڑھو

ادا جعفری ، نظم

ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے