ادا جعفری ، نظم

جان، تم کو خبری تک نہیں
لوگ اکثر برا مانتے ہیں
کہ میری کہانی کسی موڑ پر بھی
اندھیری گلی سے گزرتی نہیں
کہ تم نے شاموں سے ہر رنگ لے کر
مرے ہر نشان قدم کو دھنک سونپ دی
نہ گم گشتہ خوابوں کی پرچھائیاں ہیں
نہ بے آس لمحوں کی سرگوشیاں ہیں
کہ نازک مری بیل کو، اک توانا شجر
ان گنت اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہے
کوئی نا رسائی کا آسیب اس رہگزر میں نہیں
یہ کیسا سفر ہے کہ روداد جس کی
غبار سفر میں نہیں
ادا جعفری

Comments