کچھ خبر آمد ہجراں کی تو تھی پہلے سے

کچھ خبر آمد ہجراں کی تو تھی پہلے سے
دل نے لیکن کوئی تدبیر نہ کی پہلے سے
عشق میں اس کے تغافل نے عجب کام کیا
آگ یہ اور بھی کچھ تیز ہوئی پہلے سے
اتنا روکھا تو نہیں تھا کبھی لہجہ اس کا
جانے دل بیچ تھی کیا بات دھری پہلے سے
جاکے بھی اپنے حجابوں کے سبب لوٹ آۓ
ہم نے دیکھی جو بھری اس کی گلی پہلے سے
کسی منظر پہ نگائیں نہیں روکنے دیتی
ایک حیرت کہ ہے آنکھوں میں بسی پہلے سے
جانکلتا ہوں میں اک برادری میں ادھر
رقص کرتے ہوۓ پاتا ہوں پری پہلے سے
آج پھر گرد_راہ_عمر ہٹا کر عالی
اس کے چہرے پہ کھلے عکس کئی پہلے سے

جلیل عالی

Comments