بزرگوں کی دعائیں مل رہی ہیں
بزرگوں کی دعائیں مل رہی ہیں
محبت کو سزائیں مل رہی ہیں
فروزاں ہیں تمھارے غم کے دیپک
بڑی روشن فضائیں مل رہی ہیں
حسیں گیسو ہیں شانوں پر پریشاں
گلے ان سے گھٹائیں مل رہی ہیں
شعور بزم تک جن کو نہیں ہے
انھیں رنگیں ادائیں مل رہی ہیں
ترا آنچل ہوا میں اڑ رہا ہے
ترانوں کو نوائیں مل رہی ہیں
چلو بادہ کشوں میں تیرہ بختو!
ستاروں کو ضیائیں مل رہی ہیں
قفاؤں کا صلہ ساغر وطن میں
بہت ارزاں جفائیں مل رہی ہیں
ساغر صدیقی
Comments
Post a Comment