Posts

Showing posts with the label انور مسعود

پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

فن کار

رات آئی ہے بلاؤں سے رہائی دے گی

کوئی ہو جائے مسلمان تو ڈر لگتا ہے

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

ہے ثبت تری ذات سے تاریخ بشر میں

کس نے کی انسانیت کی دستگیری سوچئے​

پپو یار تنگ نہ کر

ہم نے سونا سپرد خاک کیا

اک ڈاکٹر سے مشورہ لینے کو میں گیا

مری آبائی تلواروں کے دستے بیچ ڈالے ہیں

میں جرم خمو شی کی صفائی نہیں دیتا

اشارتوں کی وہ شرحیں وہ تجزیہ بھی گیا

مرد ہونی چاہیے خاتون ہونا چاہیے

سائیڈ ایفیکٹس

طے ہو گیا ہے مسئلہ جب انتساب کا

چلو گمان کی حد سے گذر کے دیکھتے ہیں

بیمہ ، انور مسعود

کروں گا کیا جو کرپشن بھی چھوڑ دی میں نے

کوئی دیوار گریہ ہے ترے اشعار کے پیچھے