Posts

Showing posts with the label شہزاد احمد

پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے

کیا ابر سر دشت کوئی چھایا ہوا تھا

وہ میرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو

طے ہوں گے کس طرح یہ مراحل کہا نہ جائے

گلے ہزار سہی حد سے ہم بڑھیں گے نہیں

اب تلک اس کی محبت کا نشہ طاری ہے

جسے بار بار ملے تھے تم، وہ میرے سوا کوئی اور تھا

لوٹ آئی تیرے لمس سے مہکی ہوئی شامیں

دنیا کی طرف لوٹ کے آنے کے نہیں ہم

میرے ہمراہ منزل بھی رواں ہے

جس کو چکھا نہیں کبھی اس کا مزا ہی اور ہے

باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر

دامن زندگی میں ہیں کون سے حادثات ابھی

کیسے گزر سکیں گے زمانے بہار کے

غم اگر ساتھ نہ تیرا دے گا

آج تک اس کی محبت کا نشہ طاری ہے

وہ دن کہ زمیں پر کبھی پاؤں نہ پڑے تھے

اس مروت پہ محبت کا گماں کیا ہوگا

شامل نقش کارواں ہیں ہم

کچھ نہ کچھ ہو تو سہی انجمن آرائی کو