دامن زندگی میں ہیں کون سے حادثات ابھی

دامنِ زندگی میں ہیں کون سے حادثات ابھی
دَور کئی گُزر گئے اور کَٹی نہ رات ابھی
معرکہء حیات میں دونوں جہاں اُجڑ چُکے
کوئی نہیں مِٹا سکا دل کی توقعات ابھی
شوق نے رنگ رنگ کے رکھے ہیں بُت تراش کر
بُت شکنانِ دھر کا ذہن ہے سومنات ابھی
کون سا فتنہء جہاں، مُنتظرِ ظہور ہے
کِس کے لیے کُھلا رکھوُں بابِ تصورّات ابھی
ذرّے کے نوُر کی کِرن تختِ خُدا کو چُھو گئی
پھر بھی نگاہِ خلق میں تِیرہ ہے کائنات ابھی
رُوح کی واردات سے شہر کو آشنا نہ کر
خاک پہ روشنی نہ ڈال، خاک ہے بے صفات ابھی
حُسن کے ایک رنگ کی تاب نہ لا سکا یہ دل
دیکھنے کے لیے تو تھیں اور تجلّیات ابھی

شہزاد احمد

Comments