ایسا مت سوچ کہ اک جیسی کہاں ہوتی ہے
ایسا مت سوچ کہ اک جیسی کہاں ہوتی ہے
یہ غنیمت ہے مساجد میں اذاں ہوتی ہے
عین اس وقت کہ جب بچنے کی امید نہ ہو
رب نہیں ہوتا مرے سامنے ماں ہوتی ہے
ایسے ماحول میں ہم خاک جئیں گے کہ جہاں
پرسکوں موت کی مہلت بھی گراں ہوتی ہے
گفتگو کر تو مرے ساتھ کہ تصدیق تو ہو
لوگ کہتے ہیں کہ خوشبو کی زباں ہوتی ہے
تیری آنکھوں کی نمی عالم ٍگریہ کا وقار
تیرے ہونٹوں پہ ہنسی آ کے جواں ہوتی ہے
تف ہے اس پیار پہ اور خود پہ تعجب ہے مجھے
تیرے جانے پہ بھی اس جسم میں جاں ہوتی ہے
راکب مختار

Comments
Post a Comment