Posts

Showing posts with the label ساغر صدیقی

شان درویش

نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مرے ہوئے

نہ کشتیوں نہ کناروں کا احترام کرو

اللہ رے اس چشمِ عنایات کا جادو

تہذیب بے نقاب کی آنکھیں نکال دو

میں کہ آشفتہ و رسوا سر بازار ہوا

ہر مرحلہ شوق سے لہرا کے گزر جا

میں التفات یار کا قائل نہیں ہوں دوست

متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیں

چمک جائے گا تشنگی کا نگینہ

مائل جور سب خدائی ہے

یہ کہتی ہیں فضائیں زندگی دو چار دن کی ہے

محمد باعث حسن جہاں ایمان ہے میرا

جب بھی نعت حضور کہتا ہوں

سرمایہ حیات ہے سیرت رسول کی​

اللہ ہی جانے کون بشر ہے

نہ ہوتا در محمدؐ کا تو دیوانے کہاں جاتے

ہمیں جو یاد مدینے کا لالہ زار آیا

لبوں پہ جس کے محمد کا نام رہتا ہے

جس طرف چشم محمد کے اشارے ہو گئے​