چمک جائے گا تشنگی کا نگینہ
چمک جائے گا تشنگی کا نگینہ
میرا جام ہے اور شرابِ مدینہ
خوشا عشقِ آلِ محمدؐ میں مرنا
یہی ہے یہی زندگی کا قرینہ
نگاہِ محمدؐ کی تابانیوں سے
مہ و مہر کو آ گیا ہے پسینہ
جسے مل گئی خاکِ پائے محمدؐ
اُسے ملِ گیا عِشرتوں کا خزینہ
میرے گُلستاں میں بہاروں کے خالق
بڑی دیر سے ہے خزاں کا مہینہ
مدد یا محمدؐ! ڈراتی ہے مُجھ کو
یہ مکّار دُنیا، یہ راہزن حسینہ
حبیبِؐ خُدا، ناخُدا جس کے ساغرؔ
بھنور میں بھی محفوظ ہے وہ سفینہ
ساغر صدیقی
Comments
Post a Comment