کوئی گمان نہیں دیکھ خواب اصلی ہے

کوئی گمان نہیں دیکھ ، خواب اصلی ہے
کہ شعر و شاعری اصلی ، کتاب اصلی ہے

عجیب شخص ہے ہر بات جھوٹ لگتی ہے
وہ چھو کے دیکھ رہا کہ گلاب اصلی ہے ؟

یہ میرا عکس نہیں واقعی میں آیا ہوں
یہ شام وصل کا منظر جناب ، اصلی ہے

میں کیوں دکھاوے کی خاطر اجاڑ لوں خود کو
یہ پھیکا رنگ ، یہ حالت خراب ، اصلی ہے

اسے تو ہجر سے زیروزبر کا فرق نہیں
وہ خوش ہے چہرے کی یہ آب و تاب اصلی ہے

ہاں صبر و ضبط کی نقلی ہے کیفیت قیصر
ہاں جسم و جان پہ ٹوٹا عذاب اصلی ہے

  زبیر قیصر

Comments