جو بھی ہے وہ سڑیل اچھا لگتا ہے
جو بھی ہے وہ سڑیل اچھا لگتا ہے
ٹوکنا اس کا پل پل اچھا لگتا ہے
مجھ کو ڈر ہے کھو جائیں گے ہم اس میں
ویسے تو یہ جنگل اچھا لگتا ہے
گھومنے پھرنے کی کتنی شوقین ہوں میں
لیکن اس کو ہوٹل اچھا لگتا ہے
پہلی بارش کی سوندھی سوندھی خوشبو
اور گاؤں کا پیپل اچھا لگتا ہے
تصویروں سے باتیں کرنے لگتی ہوں
کبھی کبھی وہ پاگل اچھا لگتا ہے
ہم دونوں کی جوڑی ایسے جچتی ہے
جیسے آنکھ میں کاجل اچھا لگتا ہے
ہجر کی رات انگیٹھی اچھی لگتی ہے
وصل کی رات میں کمبل اچھا لگتا ہے
زہرا قرار
Comments
Post a Comment