Posts

Showing posts with the label اسلم کولسری

سپنوں کے شرمیلے سائے رات کا نیلا شور من ساگر کی اور​

تم میری جان ہو مگر اسلم

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا

روٹھ کر نکلا تو وہ اس سمت آیا بھی نہیں

خوامخواہ کا مشیر مر جائے

دل میں جمنے لگا ہے خوں شاید

خیال خام تھا یا نقش معتبر نہ کھلا

بنے کس طرح آشیانہ کہیں

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں

اگرچہ پیکر حسن وفا تھا وہ بھی گیا

بکھرے بکھرے بال اور صورت کھوئی کھوئی

وہی خوابیدہ خاموشی وہی تاریک تنہائی

ہر چند بے نوا ہے کورے گھڑے کا پانی

سینے میں سلگتے ہوئے جذبات کا جنگل

صرف میرے لئے نہیں رہنا

سن ری شیش محل کی مہلا آیا رمتا جوگی

دل سلگنے لگا دعا بن کر

دل و نگاہ کے سب رابطے ہی توڑ گیا

منڈیروں پر دیے سے جل اٹھے ہیں

بھیگے شعر اگلتے جیون بیت گیا