بنے کس طرح آشیانہ کہیں

بنے کس طرح آشیانہ کہیں
مرے پاس کرنیں ہیں، تنکے نہیں

اسے گنگنایا تو چاروں طرف
حسیں تتلیاں جھلملانے لگیں



گلی میں بکھرتی ہوئی چیخ سے
چمکتی ہوئی کھڑکیاں بجھ گئیں

سبھی خوشنما خواب خوں ہو گئے
ذرا بھی نہ مہکی غزل کی زمیں

اندھیرے کی دہلیز میں دفن ہے
وہی دل کہ تھا روشنی کا امیں

دیار بدن سے دھوئیں کی طرح
جوانی کی صبحیں گزرتی رہیں

اچانک یہ کس نے پکارا مجھے
کہ اسلم مری کرچیاں جل اٹھیں
اسلم کولسری

Comments